ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / خلیجی خبریں / ہرین پانڈیا قتل مقدمہ، سپریم کورٹ میں حتمی بحث شروع، جمعیۃ علماء نے بھی سینئر وکلاء کی خدمات حاصل کیں 

ہرین پانڈیا قتل مقدمہ، سپریم کورٹ میں حتمی بحث شروع، جمعیۃ علماء نے بھی سینئر وکلاء کی خدمات حاصل کیں 

Thu, 29 Nov 2018 00:18:44    S.O. News Service

ممبئی:28/نومبر (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)ہرین پانڈیا قتل معاملے میں 12 مسلم نوجوانوں کو قتل کرنے کے الزامات سے باعزت بری کرنے والے ہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف سی بی آئی کی جانب سے سپریم کورٹ میں داخل اپیل پرآج سماعت عمل میں آئی جس کے دوران یونین آف انڈیااورسی بی آئی نمائندگی کرتے ہوئے اٹارنی جنرل آف انڈیا تشار مہتا نے بحث شروع کی جو آج نا مکمل رہی، کل عدالت پھر سے بحث کی سماعت کریگی، استغاثہ کی بحث کے بعد جمعیۃ علماء کے وکلاء بحث کا جواب دیں گے ، یہ اطلاع آج یہاں ممبئی میں ملزمین کو قانونی امداد فراہم کرنیوالی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے دی ۔گلزار اعظمی نے بتایا کہ آج سپریم کورٹ کی دو رکنی بینچ کے جسٹس ارون مشراء اور جسٹس ونیت شرن کے روبرو معاملے کی سماعت ہوئی جس میں جمعیۃ علماء کیجانب سے ملزمین کی پیروی کرنے کے لیئے سینئر وکلاء راجو رام چندرن، امریندر شرن ، نیتاراما کرشنن و ایڈوکیٹ آن ریکارڈ ارشاد احمد، ایڈوکیٹ گورو اگروال ، میگرانک پربھاکر و دیگر موجود تھے جنہوں نے عدالت کو بتایا کہ استغاثہ کی بحث مکمل ہونے کے بعد وہ اپنی بحث عدالت کے سامنے پیش کریں گے۔واضح رہے کہ 26 مارچ 2003 کو اس وقت کے ہوم منسٹر (گجرات)ہرین پانڈیاکو قتل کر دیا گیا تھا جس کے بعد تفتیشی ایجنسی CBIنے ۱۲؍ مسلم نوجوانوں کو شک کی بنیاد پر گرفتار کیا تھا اور ان کے خلاف مقدمہ کیا تھا ، نچلی عدالت نے ملزمین کو قصور رار ٹہرایا تھا جس کے بعد جمعیۃعلماء کے توسط سے ہائی کورٹ میں اپیل داخل کی گئی جہاں ہائی کورٹ نے تمام ۱۲؍ ملزمین کو باعزت بری کرتے ہوئے انہیں جیل سے رہا کیئے جانے کے احکامات جاری کیئے تھے۔2007 ء میں پوٹا عدالت نے ملزمین محمد پرویز عبدالقیوم،شہنواز محمد گاندھی، کلیم احمد حبیب کرمی، ریحان عبدالماجد پٹھاوالا، محمد ریاض عبدالواحید سریش والا، محمد روؤف عبدالقادر، محمد سیف الدین، محمد اصغر علی،پرویز خان پٹھان اور محمد فاروق عثمان غنی کو قصور وار ٹہراتے ہوئے انہیں عمر قید اور دس سالوں کی سزائیں تجویز کی تھی جس کے بعد ملزمین نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا جہاں انہیں باعزت بری کردیا گیا تھا۔
جمعیۃ علماء احمدآباد کے ذمہ داران مفتی عبدالقیوم، مرزا نور بیگ، سلمان مسالہ والا و دیگر اس مقدمہ کی پیروی کررہے ہیں اور مقدمہ کی سماعتوں پر سپریم کورٹ میں موجود رہتے ہیں۔


Share: